20 مارچ 2011 - 20:30

بحرین میں سعودی فوج اور لیبیا میں مغربی افواج کی جارحیت اپنے اندرکتنی پیچدگی لئے ہوئے ہے اس کااندازہ شائد فی الوقت مشکل ہو تاہم حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین اسے تیل کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔

ابنا: اس جنگ میں ایک طرف خطے کے عوام ہیں اور دوسری طرف مغرب اور علاقے میں موجود ان کے مفادات کے نگراں چند خاندان جو ایک طویل عرصے سے اس خطے کے عوام کی قومی دولت پر سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی فوج نے ، جو بحرینی انقلابیوں کو سرکوب کرنے کے لئے منامہ گئي ہے، منامہ میں واقع بہت سی مساجد کو شہید کردیا ہے۔
مبصرین سعودی فوج کے ہاتھوں مساجد کی تخریب کو ماضی میں آل سعود کے ہاتھوں جنت البقیع میں واقع مزارات مقدسہ کے کی شہادت اور روضہ رسول کو بلڈوزروں سے ویران کرنے کی نا پاک سازش کا سلسل قرار دے رھے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق العالم ٹی وی نے ایسی تصاویر نشر کی ہیں جن میں سعودی عرب کے فوجیوں نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع بہت سی مساجد کو شہید کیا ہے۔
ادہر لیبیا کے مختلف مقامات پر مغربی ملکوں کے حملوں پر علمی سطح پر خاصا سخت رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے لیبیا پر مغربی ملکوں کے حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ ایران کا موقف دنیا کے ہر ملک میں عوام کے جائز مطالبات اور خواہشات کی حمایت پر مبنی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے لیبیا پر مغربی ملکوں کے حملوں کے بارے میں آج کہا کہ تسلط پسند طاقتوں کی اس طرح کی کارروائيوں کا ریکارڈ ان کی نیت کو مشکوک بنانے والا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ ممالک پہلے تو عوام کی حمایت کے پر کشش نعرے لگاتے ہیں لیکن اس کے بعد اپنے پیش نظرممالک میں اپنے مفادات کے حصول ، فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور نئی شکل میں سامراجی پالیسیوں کے تسلسل کی کوششیں شروع کردیتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے اہم تغیرات کے دور سے گزر رہے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ پوری دانش مندی کے ساتھ اپنے جائز اور قانونی مطالبات کو جاری رکھیں اور تسلط پسند طاقتوں کو حالات سے غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔
حقیت تو یہ کہ دوغلے پن کے حامل امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی دراصل اس خطے میں اپنے مفادات خصوصا تیل کی آسان اور رواں ترسیل کی برقراری کے لئے تمام مکنہ جرائم اور حربے اپنا رہے ہیں لہذا انقلابی سوچ رکھنے والی قوتوں اور ان کے قائدین کے لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ وہ شجاعت اور بہادری کے ساتھ ساتھ فہم فراست سے بھی کام لیں اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ بیرونی طاقتیں ان کے انقلاب کو ہوئی جیک کرلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110